بنگلورو،2؍مارچ(ایس او نیوز)آنے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر حال ہی میں شہر کی 25حقوق انسانی کی تنظیموں کے اراکین کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں مشہور سماجی کارکن ایروم شرمیلا بھی شریک ہوئی تھیں۔انڈین سوشیل انسٹیٹیوٹ میں آنے والے انتخابات کے لئے انسانی حقوق کے منشور کی تیاری کے لئے منعقدہ اس عوامی مشاورتی اجلاس میں ،کرناٹک کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کی منسوخی، سوشیل سیکیورٹی ایکٹ کے مضبوط نفاذ اور ریاست کے پولیس فورس میں زیادہ تعداد میں خواتین کی شمولیت وغیرہ کے بشمول کئی اہم امور کا مطالبہ پیش کیا گیا تھا۔اس اجلاس کے دوران سابقہ اسمبلی انتخابات سے قبل جاری کردہ بی جے پی، کانگریس اور سی پی آئی ایم کے انتخابی منشور کا جائزہ بھی لیا گیاب تھا اور ان میں اس بات کو محسوس کیا گیا کہ حقوق انسانی کی ان میں برائے نام ہی نشاندہی کی گئی ہے۔مذکورہ اجلاس میں مذاکرات کے بعد جو دستاویز تیار کیا گیا ہے اس کو ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں تک پہنچایا جائے گا تاکہ وہ ان مطالبات کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کر سکیں۔یہ مشاورتی اجلاس حقوق انسانی کے لئے جنوبی ہند شاخ اور انڈین سوشیل انسٹیٹیوٹ کے تعلیمی اور حقوق انسانی کی نگرانی شعبہ کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقد کیا گیا تھا۔اس دستاویز میں شدت پسند جماعتوں کی طرف سے اخلاقی پولسنگ، عوامی اور سیاسی حقوق، خواتین اور بچوں کے حقوق، صفائی کرم چاریوں، قبر کھودنے والوں،معذوروں، جنسی اقلیتوں، قبائلی باشندوں، درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے افراد ، اقلیتوں،غیر منظم طبقات اور مہاجرین کے حقوق پر بحث کی گئی ہے۔یونیورسل پیریوڈک ریویو (یو پی آر III ( کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کردہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کی سفارشات کو اس دستاویز کے لئے پس منظر کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔افسپا کارکن ایروم شرمیلا اور ان کے شوہر ڈیسمنڈ کوٹنہو نے اس دستاویز کی تیاری میں حصہ لیا تھا ، اسی دوران شرمیلا نے کہا کہ ’’شمال مشرقی ریاستوں سے کئی لوگ یہاں ملازمتوں کی تلاش میں آتے ہیں، ان کے ساتھ امتیازی برتاؤ نہیں کیا جانا چاہئے، ان لوگوں کے خلاف ہو رہے نسلی حملوں پر بھی روک لگائی جانی چاہئے، اس کے علاوہ کرناٹک میں ایسے خوف ناک قوانین نہیں ہونے چاہئے جو کہ پولیس کو کھلی چھوٹ دے دیتے ہوں جیسا کہ افسپا فوج کو دیتا ہے‘‘۔